سرد و گرم

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - راحت اور تکلیف، نشیب و فراز، نرم و گرم، اونچ نیچ۔ "نیاز صاحب کا ادب گزشتہ نصف صدی سے خانہ نشین ہونے کی جگہ زندگی کے ہر سرد و گرم میں حصہ لیتا رہا ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، نیم رخ، ٦١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'سرد' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگا کر فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'گرم' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٣٨ء سے "بستان حکمت" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - راحت اور تکلیف، نشیب و فراز، نرم و گرم، اونچ نیچ۔ "نیاز صاحب کا ادب گزشتہ نصف صدی سے خانہ نشین ہونے کی جگہ زندگی کے ہر سرد و گرم میں حصہ لیتا رہا ہے۔"      ( ١٩٦٣ء، نیم رخ، ٦١ )

جنس: مذکر